پاکستان عوامی تحریک کے زیر اہتمام ’’دھاندلی زدہ غیر آئینی انتخابات‘‘ کے عنوان سے سیمینار‎

دھاندلی زدہ اسمبلیاں ملک، عوام اور جمہوریت کو کمزور کر رہی ہیں: مقررین
سیمینار سے خرم نواز گنڈاپور، میاں محمود الرشید، علامہ امین شہیدی، سردار آصف احمد علی، فرید پراچہ، میاں عمران مسعود و دیگر کا خطاب
قرارداد کے ذریعے سانحہ ماڈل ٹاؤن کے شہداء کو خراج تحسین پیش کیا گیا، ظالمانہ نظام کے خلاف جدوجہد تیز کرنے کا عزم

لاہور (11 مئی 2015) اسمبلیوں کی دو سالہ مدت مکمل ہونے پر پاکستان عوامی تحریک کے زیر اہتمام ’’دھاندلی زدہ غیر آئینی انتخابات‘‘ کے عنوان سے منعقدہ سیمینار سے مقررین نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ دھاندلی زدہ اسمبلیاں ملک، عوام اور جمہوریت کو کمزور کررہی ہیں۔ پوری قوم کی نظریں جوڈیشل کمیشن پر لگی ہیں۔ کمیشن ایسا فیصلہ دے کہ ہمیشہ کیلئے دھاندلی کے تمام راستے بند اور جمہوریت کی گاڑی پٹڑی پر چڑھ سکے۔ سیمینار میں عوامی تحریک کے سربراہ ڈاکٹر طاہرالقادری کی جدوجہد اور عوامی تحریک کے شہید کارکنوں کو ایک قرارداد کے ذریعے خراج تحسین پیش کیا گیا۔ سیمینار کے میزبان پاکستان عوامی تحریک کے مرکزی سیکرٹری جنرل خرم نواز گنڈا پور تھے۔

سیمینار سے صوبائی اسمبلی پنجاب میں قائد حزب اختلاف میاں محمود الرشید، مجلس وحدت المسلمین کے سیکرٹری جنرل امین شہیدی، سابق وزیر داخلہ سردار آصف احمد علی، جماعت اسلامی کے سینئر رہنما فرید پراچہ، ق لیگ کے صوبائی سیکرٹری اطلاعات میاں عمران مسعود، سینئر قانون دان عبدالرشید ایڈووکیٹ، سنی اتحاد کونسل کے رہنما مفتی حسیب، اقلیتی رہنما مارٹن جاوید، سید نوبہار شاہ، ڈاکٹر احسن محمود، سول سوسائٹی کے رہنما عبداللہ ملک اور سہیل رضا نے خطاب کیا۔ سٹیج سیکرٹری کے فرائض جواد حامد نے انجام دئیے۔

خرم نواز گنڈاپور نے حرف آغاز میں کہا کہ آئین کی دفعہ 62 اور 63 پر عمل نہ کر کے اسمبلیوں اور عوام کے ووٹ اور پورے نظام کو مذاق بنا دیا گیا۔ جوڈیشل کمیشن دھاندلی کے خلاف فیصلہ سنانے کے ساتھ ساتھ جعلی ڈگری والے پارلیمنٹرین، ٹیکس چوروں کیلئے عبرتناک سزائیں تجویز کرے، ان کے فیصلے جلد سے جلد سنائے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ لوٹ کھسوٹ کے نظام کو چیلنج کرنے پر ہمارے 14 کارکنوں کو شہید اور 85 کو شدید زخمی کیا گیا لیکن خون کا بدلہ خون کی صورت میں لیکر چھوڑیں گے۔ ظلم کے نظام کے خلاف جدوجہد جاری رکھنے کے حوالے سے ہمارے حوصلوں کو کمزور نہیں کیا جا سکا۔

قائد حزب اختلاف پنجاب میاں محمود الرشید نے کہا کہ دھاندلی زدہ ظالمانہ نظام کے خلاف ضرورت پڑنے پر عوامی تحریک کے ساتھ ملکر پھر نکلیں گے، نگران حکومت دھاندلی کے ماسٹر پلان کا حصہ تھی ورنہ 45 دن کے اندر انتخابات کرانے کے اعلانات نہ ہوتے۔ نجم سیٹھی حکمران جماعت کیلئے مضبوط امیدواروں کے چناؤ میں بھی مدد کرتے رہے۔ مارشل لاء سے بچنے کیلئے آئین و قانون کے اندر رہ کر جدوجہد کی ورنہ احتجاجی تحریک کے سامنے حکومت 2 ماہ بھی نہ ٹھہر پاتی۔ یہ کیسی جمہوریت اور انتخابی نظام ہے کہ حامد خان جیسا سینئر وکیل اور عمران خان انصاف کیلئے 2سال سے عدالتوں کی خاک چھانتے رہے۔ انہوں نے نظام کی تبدیلی کیلئے عوامی تحریک کے کارکنوں کو زبردست خراج تحسین پیش کیا اور کہا کہ حکمرانوں کو شہیدوں کا خون ہضم نہیں ہو گا۔

علامہ امین شہیدی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ صرف الیکشن کمیشن ہی نہیں ہر ادارہ دھاندلی اور کرپشن میں لتھڑا ہوا ہے جو نظام بچوں کو تعلیم مریض کو دوائی، بھوکے کو روٹی مظلوم کو انصاف نہ دے سکے اسے کب تک اپنے اوپر مسلط رکھا جائے؟ انہوں نے کہا کہ جج، تھانے بکتے ہیں، عوام کو حرام گوشت کھلایا جاتا ہے۔ تعلیم، صحت، انصاف نہیں۔ ایسے میں ایک الیکشن کمیشن کو برا بھلا کب تک کہا جائے۔ انہوں نے کہا کہ اس ظلم کے نظام کو ختم کرنے کیلئے قوم کو باہر نکلنا پڑے گا۔ کرپشن ملکی بنیادوں کو دیمک کی طرح چاٹ گئی۔ چند سو گھرانوں نے قوم کو یرغمال بنارکھا ہے۔ لوگوں کو اعتماد اور شعور دینا ہو گا۔ سابق وزیر خارجہ سردار آصف احمد علی نے کہا کہ آج پاکستان بنانے والے سب سے زیادہ مشکل میں ہیں۔

مسیحی سپیکر پنجاب اسمبلی خان سنگھا نے کاسٹنگ ووٹ پاکستان بنانے کے حق میں دیا اور ہم گوجرہ، جوزف کالونی، کوٹ رادھا کشن میں عیسائیوں کو جلارہے ہیں، کم از کم مجھ میں مسیحی عوام کا سامنا کرنے کی ہمت نہیں۔ موجودہ نظام ناکارہ ہو چکا سسٹم اور آئین پر نظر ثانی کی ضرورت ہے۔ اگر ہم نے بطور قوم زندہ رہنا ہے تو ہمیں سیاسی فکر کیلئے حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے خبطہ حجۃ الوداع اور بانی پاکستان قائداعظم رحمۃ اللہ علیہ کی 11 اگست کی صدارتی تقریر سے رہنمائی لینا ہو گی۔ انہوں نے کہا کہ جیتے ہوؤں کو ہرا دینے والے اس نظام کے ذریعے کوئی تبدیلی نہیں آ سکتی۔ پڑھا لکھا نوجوان سڑکوں پر رل رہا ہے۔ بچوں کو تعلیم نہیں مل رہی، یہ کیسی جمہوریت ہے۔ موجودہ نظام کے محافظ کمپیوٹرز سے بھی جھوٹ بلوانے کی مہارت رکھتے ہیں اب پیوند کاری سے نہیں سرجری سے اصلاح احوال ممکن ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ جمہوریت نہیں چنگیزی ہے۔ تبدیلی کیلئے امید کا دامن نہ چھوڑتے ہوئے جدوجہد ناگزیر ہے۔

فرید پراچہ نے کہا کہ پاکستان کی بقاء جمہوریت اور انتخاب کے راستے میں ہے، اسے ٹھیک کرنے کا وقت آگیا۔ بھارت اور پاکستان کی جمہوریت میں صرف الیکشن کمیشن کا فرق ہے بھارتی معاشرہ میں وہی برائیاں ہیں جو ہمارے ہاں ہیں مگر ان کا الیکشن کمیشن غیر جانبدار ہے اس لیے بھارتی انتخابات پر انگلی نہیں اٹھتی، ہم ایسا الیکشن کمیشن کیوں نہیں بنا سکتے؟ انہوں نے کہا کہ ہمارے انتخابی نظام میں کرپشن اور مافیا جیتتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ جمہوریت نے پاکستان کو 70 ارب ڈالر اور ہر شہری کو 80 ہزار روپے کا مقروض کر دیا ہے۔ تمام سیاسی جماعتیں دھاندلی زدہ انتخابی نظام کے خلاف جدوجہد کریں۔

سینئر قانون دان عبدالرشید قریشی نے کہا کہ مادر ملت کو بھی دھاندلی کے ذریعے ہرایا گیا۔ موجودہ اسمبلیاں بھی جعلی اور ان کے نتیجے میں بننے والی حکومت بھی جعلی ہے۔ انہوں نے کہا کہ احتساب کا ایجنڈا رکھنے والی ایک سالہ عبوری حکومت قائم کی جائے جو سارا گند صاف کر کے عوام کو اپنے نمائندے منتخب کرنے کا حق دہے۔

ڈاکٹر حسن نے کہا کہ 1947 کے بعد اگر نظام کی خرابی دور کرنے کیلئے اگر کسی نے اپنا خون اور پسینہ بہایا تو وہ عوامی تحریک کے کارکن اور اس کے رہنما ہیں۔ ڈاکٹر طاہرالقادری کی جدوجہد سنہری حروف سے لکھی جائے گی۔ اسبملیوں نے بی اے کی شرط ختم کر کے بتا دیا کہ پارلیمنٹ میں پڑھے لکھے افراد کی ضرورت نہیں۔

سید نور بہار شاہ نے کہاکہ دھاندلی کے نتیجے میں قائم ہونے والی حکومت کسانوں، کاشتکاروں اور زمینداروں کو کچل رہی ہے۔ تاجر حکمرانوں کی پالیسیاں مختلف طبقات کو لڑارہی ہیں اور سیمینار کے اختتام پر ایک قرارداد کے ذریعے اس عزم کا اظہار کیا گیا کہ سانحہ ماڈل ٹاؤن کے شہداء کو انصاف دلوایا جائے گا اور دھاندلی زدہ انتخابی نظام کو بدلنے کیلئے جدوجہد تیز کی جائے گی تاکہ حقیقی جمہوریت اور کرپشن سے پاک معاشرہ قائم ہو سکے۔

تبصرہ