شہبازشریف کے استعفے تک کوئی JIT قبول نہیں۔ ڈاکٹر طاہرالقادری

ملاقات میں ایف آئی آر کے اندراج، وزیر اعلیٰ کے استعفیٰ اور غیر جانبدار JITکی تشکیل کے مطالبات کو آرمی چیف نے فیئر قرار دیا تھا
حکومت کی ’’پاکٹ جنتری‘‘ JIT مسترد کرتے ہیں، اس سے بہتر ہے شہباز شریف خود سربراہ اور حمزہ شہباز کو ممبر بنا لیں، پریس کانفرنس سے خطاب

لاہور (14 نومبر 2014) پاکستان عوامی تحریک کے قائد ڈاکٹر طاہرالقادری نے کہا ہے کہ آرمی چیف سے ملاقات کے موقع پر اپنے تین مطالبات پیش کئے تھے، پہلا ایف آئی آر کا اندراج، دوم ایسی غیر جانبدار JITکی تشکیل جس پر ہمیں اعتماد ہو، سوم شہباز شریف کا استعفیٰ، ہمارے تینوں مطالبات کو آرمی چیف جنرل راحیل شریف نے فیئر قرار دیا تھا، ایف آئی آر تو درج ہوگئی باقی دو مطالبات پورے نہیں ہوئے، آرمی چیف ہمیں انصاف دلوائیں۔ 5ماہ بعد پنجاب حکومت نے جو JIT بنائی ہے اس سے بہتر تھا کہ میاں شہباز شریف خود سربراہ بن جائیں، ممبرز میں حمزہ شہباز اور خاندان کے دیگر افراد کو شامل کر لیں، میاں شہباز شریف جب تک استعفیٰ نہیں دیتے کوئی JIT قبول نہیں کریں گے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے گذشتہ روزکینیڈا سے ویڈیو لنک کے ذریعے مرکزی سیکرٹریٹ میں پریس کانفرنس سے خطاب کر تے ہوئے کیا۔ اس موقع پر مرکزی سیکرٹری جنرل خرم نواز گنڈا پور، مشتاق نوناری ایڈووکیٹ، جی ایم ملک، قاضی فیض، محمد نور اللہ، جواد حامد اور حفیظ چودھری بھی موجود تھے۔

ڈاکٹر طاہرالقادری نے کہاکہ آرمی چیف سے گذارش کی تھی آپ ثالث کے ساتھ ضامن بھی بنیں، ہمیں انصاف نہیں مل رہا، جن عدالتوں سے انصاف چاہیے وہ ہمارے وارنٹ نکال رہی ہیں اور اشتہاری قرار دے رہی ہیں، آپریشن ضرب عضب کی کامیابی کیلئے آپریشن ضرب عدل ضروری ہو گیا ہے، ڈر ہے نا انصافی کے واقعات پرضرب عضب کا دائرہ پورے ملک میں تک بڑھانا نہ پڑجائے۔ ضرب عدل سے مراد عدل اور صرف عدل ہے۔ انہوں نے کہا کہ سانحہ ماڈل ٹاؤن پر ریاستی دہشت گردی کی انتہا کر دی گئی، 12گھنٹے گولیاں چلائی گئیں، لاشیں گرائی گئیں، خون بہایا گیا، پنجاب حکومت کی بنائی گئی ’’پاکٹ جنتری‘‘ JIT کو مسترد کرتے ہیں۔ سیاسی جرگہ نے بھی ہمارے اعتماد کی غیر جانبدار JIT پر اتفاق کیا تھا جس سے حکمران منحرف ہو گئے، انہوں نے کہاکہ جب تک میاں شہباز شریف استعفیٰ نہیں دیتے انصاف نہیں ملے گا۔ یہ دونوں بھائی قاتل اور سانحہ ماڈل ٹاؤن کے براہ راست ذمہ دار ہیں۔ عبد الرزاق چیمہ شریف خاندان کا فیملی فرینڈ ہے، اس کی ساری سروس لاہور، فیصل آباد، راولپنڈی میں گزری، حکومت سے مذاکرات کے دوران عبد الرزاق چیمہ کو ناپسندیدہ ترین قرار دیا تھا۔

ڈاکٹر طاہرالقادری نے کہاکہ میاں نواز شریف، میاں شہباز شریف سے پوچھتا ہوں 5 ماہ قبل جو JIT بنائی گئی تھی اُس میں اور اس میں کیا فرق ہے؟ یہ JIT  صرف قربانی کے بکرے تلاش کرنے کیلئے بنائی گئی ہے۔ 6 رکنی JIT میں حکومت نے 5 ممبرز تو اپنی پسند کے لے لئے یہ انصاف کا خون ہے، جب لوگوں کو انصاف نہیں ملے گا تو وہ پھر خود بندوق اٹھا لیں گے اس لئے کہہ رہے ہیں کہ آپریشن ضرب عضب کی کامیابی کیلئے آپریشن ضرب عدل ضروری ہے۔ میاں شہباز شریف استعفیٰ دیں اور JIT کا سربراہ KPK سے لیا جائے۔ ہمارا مطالبہ تھا ایک ممبر آئی ایس آئی، ایک ایم آئی اورایک ممبر آئی بی سے لیا جائے، واضح کیا تھا کہ ایسی کوئی جے آئی ٹی قبول نہیں کرینگے جس میں پنجاب کے افسر شامل ہوں گے کیونکہ قاتل کیسے انصاف دے سکتے ہیں؟۔

انہوں نے کہاکہ JIT کا سربراہ کوئٹہ سے لئے جانے کا عمل دھوکہ پر مبنی ہے، یہ کوئی بلوچ افسر نہیں اسکی ساری سروس پنجاب کی ہے اور کوئٹہ ڈیپوٹیشن پر گیا، یہ شریف خاندان کا فیملی فرینڈ ہے۔ انہوں نے کہا کہ میاں شہباز شریف قاتل اور سانحہ ماڈل ٹاؤن کے منصوبہ ساز ہیں وہ عدالتیں کب قائم ہو ں گی جنکے ہاتھ ان قاتلوں کے گریبانوں تک پہنچیں گے۔ یہاں دوہرا قانون ہے۔ ماڈل ٹاؤن اور اسلام آباد ریاستی دہشت گردی کے مناظر پوری قوم نے براہ راست دیکھے۔ مزید کن ثبوتوں کی ضرورت ہے؟حکومتی JIT ایک سازش ہے۔

انہوں نے کہا کہ مجھ پر مقدمات بنانا اور وارنٹ جاری کروانا حکومت کا بزدلانہ اقدام ہے۔ حکومت مجھے گرفتار کرنا چاہتی ہے تو شوق پورا کر لے، ہم وزیر اعلیٰ کے استعفیٰ کی بات پہلے دن سے کر رہے ہیں اور اس سے پیچھے نہیں ہٹیں گے، ثالث اور ضامن آرمی چیف سے انصاف کی درخواست ہے۔

انہوں نے کہا کہ حکومت نے سانحہ ماڈل ٹاؤن کی طرح سانحہ اسلام آباد پر بھی غیر جانبدار JIT تشکیل دینے کا مطالبہ مانا تھا جس سے یہ لوگ منحرف ہو گئے، مجھ پر 1992 میں ہونے والے حملہ کی فائل غائب کر دی گئی، سانحہ ماڈل ٹاؤن کی رپورٹ چھپا دی گئی، ہم انصاف لے کر رہیں گے، انہوں نے کہاکہ ہم پر ڈیل اور دیت کا الزام لگانے والوں کو شرم آنی چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ جنرل راحیل شریف سے ملاقات کے دوران میں نے ان میں اچھے مسلمان کی تمام خوبیاں دیکھیں ہمیں اپنے سپہ سالار پر فخر ہے۔ ہمارے تین میں سے دو مطالبات ابھی پورے نہیں ہوئے جنہیں آرمی چیف نے فیئر قرار دیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ میں نے پی ٹی وی کا دروازہ بھی نہیں دیکھا اور مجھ پر حملہ کا کیس بنا دیا گیا۔ ہم ماڈل ٹاؤن میں محصور تھے اور موٹر وے کا کیس بنا دیا گیا۔ یہ کیا عدالتیں، قانون اور انصاف کا نظام ہے ؟

تبصرہ