ظالمو طاہر القادری آرہا ہے - از ادیب جاودانی (روزنامہ نوائے وقت)

پاکستان عوامی تحریک، تحریک منہاج القرآن کے سربراہ ڈاکٹر طاہرالقاد ری نے ایک ٹی وی چینل کو ایک تفصیلی انٹرویو دیتے ہوئے کہا ہے کہ ملک میں کرپشن، مہنگائی اور بےروزگاری عروج پر ہے پارلیمنٹ کو بائی پاس کرکے راتوں رات فیصلے مسلط کر دیئے جاتے ہیں حکومت نے اڑھائی کروڑ کی سرمایہ کا ری پر چھان بین نہ کرنے کی پالیسی کو پارلیمنٹ میں لائے بغیر 50 ارب میں تبدیل کرکے ملک میں کرپشن سے اکٹھی کی گئی کمائی کو جائز قرار دیئے جانے کا منصوبہ بنا لیا ہے چھ ماہ میں حکومت نے روز مرہ اشیاءکی قیمتوں میں 50 فیصد سے زائد اضافہ کردیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پیپلزپارٹی کی حکومت نے پانچ سال کے عرصے میں جو بدنامی سمیٹی تھی (ن) لیگ صرف چھ ماہ میں عدم مقبولیت کی ان سرحدوں کو پار کر چکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ تمام تر بلند و بانگ دعوﺅں اور ماضی میں کئے گئے وعدوں کے باوجود خبر ہے کہ نواز حکومت کے پہلے سہ ماہی میں ملک کے ذمہ واجب الادا قرضہ جات و واجبات کی مد میں 1128 ارب روپے کا ناقابل یقین اضافہ دیکھنے میں آیا ہے یہ عدد شاید اب تک دگنا ہو چکا ہوتا تاہم سٹیٹ بنک آف پاکستان کے اعداد و شمار کیمطابق جون 2013ءکے اواخر میں ملک کے ذمہ کل قرضہ 16288 ارب روپے تھا جو اب ماہ ستمبر میں 17365 ارب روپے ہوگیا ہے۔ یہ عدد درست مان لیا جائے تو ہر پاکستانی 96422 روپے کا مقروض ہے۔ 2008ءمیں یہی عدد 37172 روپے جبکہ 2012ءمیں ہر پاکستانی 80000 روپے کا مقروض تھا حکومتی ذرائع اگرچہ روپے کی قدر میں کمی کو اس کی وجہ قرار دیتے ہیں تاہم یکم جولائی 2013ءسے ماہ ستمبر تک داخلی قرضوں میں 656 ارب روپے کا اضاصہ ہوا ہے جسکا روپے کی قدر سے کوئی لینا دینا نہیں ہے ستم بالائے ستم یہ کہ ملک کے بیرونی زرمبادلہ کے ذخائر بھی 11.01 ڈالر سے گھٹتے گھٹتے 3.04 ارب ڈالر رہ گئے ہیں۔ یہاں یہ بتانا ضروری ہے کہ 2007ءمیں ملک کے ذمہ کل واجبات 6691 ارب روپے تھے تاہم پیپلزپارٹی کی سابق حکومت کی مہربانی اور اس مہربانی میں رہ جانیوالی کسر (ن) لیگ کی موجودہ حکومت نے پوری کرتے ہوئے گوں نا گوں مسائل سے دوچار ہر پاکستانی کی مشکلات میں اضافہ کردیا ہے کمزور دل حضرات دل تھام کے رکھیں اور پہلے سے مقروض ہم وطن اس عدد کو اپنے ذمہ قرض میں شامل کرنا نہ بھولیں۔ انہوں نے کہا کہ ملک کو بچانے کیلئے پولیس سمیت تمام سر کاری ملازمین کو بھی چاہئے کہ وہ خود کو سرکاری معاملات سے الگ کرکے ملک کو بچانے کی تحریک میں شامل ہو جائیں۔ ڈاکٹر طاہر القادری نے ٹی وی چینل کو انٹرویو دیتے ہوئے جو کچھ کہا ہے وہ کافی حد تک درست ہے۔ انہوں نے 29 دسمبر کو لاہور سے تحریک چلانے کا اعلان تو کیا ہے لیکن میری اطلاع کیمطابق ان کا 29 دسمبر کو تحریک میں شامل ہونا بہت مشکل ہے اگر وہ نہ آئے تو شاید عوام بھاری تعداد میں انکی تحریک میں شامل نہ ہوسکیں۔ اس سلسلے میں راقم کی تحریک منہاج القرآن کے رہنما اور منہاج ایجوکیشن سوسائٹی کے ڈائریکٹر شاہد لطیف سے بات ہوئی ان کا کہنا تھا کہ فی الحال تو ڈاکٹر طاہرالقادری کی پاکستان آنے کی ہمیں بہت امید ہے ہماری دعا ہے کہ وہ لاہور آئیں اور 29 دسمبر کو تحریک کی قیادت کریں۔ قا رئین کرام! ہمارے ہاں لانگ مارچ دھرنے اور احتجاجی تحریکیں عام طور پر نا دیدہ قوتوں کے اشارے پر ہی چلائی جاتی ہیں تجزیہ نگار تو یہی کہہ رہے ہیں کہ ڈاکٹر طاہر القادری بھی نادیدہ قوتوں کے اشارے پر تحریک چلا رہے ہیں بہرحال یہ تو آنیوالا وقت ہی بتائے گا کہ انہوں نے یہ تحریک اپنے طور پر چلائی تھی یا نادیدہ قوتوں کے اشارے پر شاہد لطیف نے راقم کو بتایا کہ 29دسمبر کو لاہور میں اور پانچ جنوری کو راولپنڈی میں 12 جنوری کو پشاور میں اور 19جنوری کو کراچی میں تحریکیں چلائی جائینگی اور ان تحریکوں کے بعد ضلع اور تحصیل سطح پر تحریکیں چلائی جائینگی۔ راقم نے شاہد لطیف سے سوال کیا کہ اخبارات میں اس نوعیت کی خبریں شائع ہو رہی ہیں کہ طاہر القادری کی احتجاجی تحریک کیلئے سرمایہ مشرف لیگ فراہم کریگی اور 29 دسمبر سے شر وع کئے جانیوالے احتجاج کا اصل مقصد سابق صدر پرویز مشرف کو سزا سے بچانا ہے انہوں نے جواب دیا کہ ہم تحریک مشرف کو سزا سے بچانے کیلئے نہیں بلکہ مہنگائی اور کرپشن کے خلاف کر رہے ہیں۔

تبصرہ